نئی دہلی6 نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) یوگیش کمار کے پھیپھڑوں کو سرجری کرکے حال ہی میں نکالا گیا ہے، لیکن ان کے سرجنوں کے لیے اس کی فکر ہے کہ وہ ہسپتال کے باہرکی ہوا بھی میں آخر کب تک ٹک پائیں گے۔ ہوا جو زندگی کہی جاتی ہے، لیکن دہلی میں ہوا تو دنیا میں بدترین میں سے ایک ہوچکی ہے؛بلکہ زہر بن چکی ہے۔ اس سطح کو جان لیوا آلودگی صرف 3 سے 4 ماہ تک رہتا ہے یعنی ہر سال زندہ بچ جانا کسی لاٹری سے کم نہیں۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق بھارت میں اسموگ سے ہر سال 10 لاکھ لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں دہلی میں ہوا سب سے نازک ہے۔ 2کروڑ کی بڑی آبادی والا یہ شہر گزشتہ کچھ سالوں سے ہر نومبر میں اسموگ کی موٹی چادر میں لپٹ جاتا ہے اور ہسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دہلی کے گنگا رام ہسپتال کے سرجن سرینواس کے گوپی ناتھ، جنہوں نے 29 سالہ یوگیش کمار کی سرجری کی تھی، کہتے ہیں کہ ’’دہلی کی ہوا اس کے (کمار) کے لئے سزائے موت کی طرح ہے۔ دہلی کی ہوا میں PM 2.5 کی سطح بہت خطرناک ہیں، یہ ذرہ اتنے خطرناک ہیں کہ آسانی سے پھیپھڑوں اور خون میں سما سکتے ہیں۔ دہلی میں PM 2.5 کی سطح اکثر محفوظ حد سے 30 گنا زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔دیوالی کی تیاریاں زوروں پر ہیں لیکن دہلی کی ہوا کے لئے یہ وقت سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ دیوالی پر پھوڑے جانے والے کروڑوں پٹاخوں سے نکلا دھواں، کاریں اور فیکٹریوں کے اخراج، تعمیر کی وجہ سے نکلے دھول اور پرالی کے جلانے سے نکلے دھوئیں پر مشتمل ہوا انتہائی زہریلا اور خطرناک بنا دیتا ہے۔اس سے ہوا میں آلودگی کی مقدار اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ سائنسی آلات بھی اسے پیمائش میں ناکارہ ثابت ہوتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت نے اکتوبر میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ خطرناک ہوا سانس لینے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں ہزار بچوں کی موت ہو جاتی ہے۔بچے بڑوں کے مقابلے اور تیزی سے سانس لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے چھوٹے سے جسم میں بالغوں کے مقابل دگنی آلودہ ہوا جسم کے اندر داخل کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دہلی میں بچوں پر آلودہ ہوا کا تباہ کن اثر پڑتا ہے۔دہلی کے معروف سرجن ڈاکٹر اروند کمار بتاتے ہیں کہ دہلی میں پیدا ہونے والا بچہ پہلے ہی دن سے جس ہوا میں سانس لیتا ہے، وہ 20 سے 25 سگریٹ کے برابر نقصان دہ ہے۔